گمشدہ افراد کی آڑ میں ملک دشمن ایجنڈے کا پرچار
پاکستان کے صوبہ سندھ میں کراچی بار کے سامنے چند خواتین و حضرات جس بھوک ہڑتال کا ڈھونگ رچائے بیٹھے تھے اس کی اصلیت تب واضح ہوئی جب چند لبڑل خواتین نے رینجرز کی گاڑی دیکھ کر خفیہ ویڈیوز بنانا شروع کی اور رینجرز کے جوانوں پر جملے کسنے شروع کر دیئے تا کہ ان کا رد عمل سامنے آئے اور ہم پوری دنیا میں رینجرز کیخلاف نہیں بلکہ فوج اور آئی ایس آئی کیخلاف بھونکنے میں بھی کامیاب ہو جائیں۔
اور ان کی خواہشات کے عین مطابق وہی ہوا جو یہ چاہتے تھے کہ بین الاقوامی میڈیا اپنے تمام تر کام چھوڑ کر صرف اسی ویڈیو کو بار بار چلاتے ہوئے آئی ایس آئی کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے جس میں بھارتی میڈیا پیش پیش ہے۔
یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہوا بلکہ آئے روز فوج اور خفیہ اداروں کو کسی نا کسی سازش کے تحت قومی اور بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ ہم سندھی، بلوچی، پنجابی اور پٹھانوں کی کم عقلی، لا علمی اور جہالت ہے۔ اگر ہم خالص و فقط پاکستانی بن کر سوچیں تو ہمیں پتا چلے کہ قومی مفاد کے محافظ اداروں کے خلاف تنقید کا فائدہ کس کو ہے اور نقصان کسے اٹھانا پڑے گا تو یقین مانو کبھی دشمن کے ہاتھ کا کھلونا نا بنیں۔
کن گمشدہ افراد کی بات کرتے ہو؟ جن 32000 کا ڈھول افغانی بندر منظور پشتین نے بجایا تھا جو بعد میں صرف چند سو رہ گئے جن میں سے متعدد نے تحریک طالبان جوائن کی اور چند ایک آج بھی افغان س زمین پر بیٹھے پاکستان کیخلاف سازشوں میں ملوث ہیں۔
ایک بات یاد رکھو ان گمشدہ افراد کی گمشدگی میں پاک فوج اور خفیہ اداروں کا کوئی ہاتھ نہیں کیونکہ یہ ادارے کوئی بھی کام بلا وجہ نہیں کرتے جہاں بھی ملکی سالمیت کر خطرہ ہو وہاں کارروائی کرنا ان کا قانونی و آئینی حق ہے۔ زیر نظر تصویر میں عورت خود ہاتھا پائی کر رہی ہے اور پولیس کے جوانوں میں گھس رہی ہے تا کہ اداروں کے کردار پر کیچڑ اچھال کر جھوٹی ہمدردی سمیٹی جا سکے۔
مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ جب بلوچستان میں 6 پنجابی مزدوروں کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا تب کہاں تھیں یہ انسانی حقوق کی تنظیمیں؟
سندھ ، بلوچستان، پختونخواہ اور پنجاب میں جو اتنے عرصے سے خود کش حملے اور دھماکوں میں پاکستانی مارے جا رہے ہیں تب کہاں چلی جاتی ہیں یہ تنظیمیں؟ پاکستان کو در پیش تمام تر اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا فوج کرتی ہے۔ سیلاب، زلزلہ، پولیو مہم، لینڈ سلائیڈنگ، مردم شماری، الیکشن سرحدی جارحیت و سی پیک کی سیکیورٹی سمیت ہر کام میں فوج کے جوان اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں جن کی انجام دہی میں متعدد افسر و جوانان شہادت کے رتبے پر فائض بھی ہو چکے ہیں۔ پھر بھی تنقید کے نشتر فوج کے سینے میں کیوں؟
آخری بات جو یاد رکھنے اور اپنے دماغ میں بٹھانے کے قابل ہے وہ یہ کہ لیبیا، شام، افغانستان، عراق اور فلسطین کے لوگوں کی سابقہ زندگیاں اور عیش و آرام سے ہم بخوبی واقف ہیں لیکن آج یہ ممالک خانہ جنگی میں گھرے ہوئے ہیں اور ان کی عوام دنیا بھر کے ممالک میں پناہ کے لیے در بدر بھٹکتی پھر رہی ہے۔ ان ممالک کے تاریخی مقامات و آثار قدیمہ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں اور ان سب کی وجہ ہے فوج کا نا ہونا جو دشمن کا مقابلہ کر سکے۔ ان ممالک کی یہ حالت بنانے والے عناصر کسی مسلم ملک کو برداشت نہیں کر سکتے اور یہی عناصر پاکستان کو بھی تباہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پاک فوج اور آئی ایس آئی ہے۔ تو خدارہ پاکستانی بن کر اپنے اداروں کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کیجئے۔ دشمن کی کٹھ پتلیاں بن اپنی موت کو آواز مت دیجئے۔




No comments:
Post a Comment