آئی-ایس-آئی بمقا بلہ امریکی سی آئی-اے - Global TV

We are an agency for promoting your businesses and websites at economical rates. If you wanted to get connected to more people you can contact us.

Breaking

Home Top Ad

loading...

Post Top Ad

loading...

Tuesday, 22 May 2018

آئی-ایس-آئی بمقا بلہ امریکی سی آئی-اے

آئی-ایس-آئی اور امریکہ کی افغانستان  میں شکست کی کہانی

(اس واقعے کے بارے میں بہت کم لوگ ہی شاید جانتے ہوں مگر یہ ہمارے گمنام بیٹوں کی ایک زوال داستان ہے )

امریکہ نے افغانستان میں اپنی شکست کا سہرا آئی ایس آئی کے سر سجاتے ہوئے پاکستان سے اپنی شکست کا بدلہ لینے کی غرض سے اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لی ٹی ٹی پی کو لانچ کیا اورحکیم اللہ محسود کو اس دہشتگرد تنظیم کا سربراہ بنا کر پوری طرح مسلح کرکے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں لاکے بٹھا دیا.



حکیم اللہ محسود ایک نہایت ہی شاطر اور سفاک انسان تھا. اس شخض نے تحریکِ ظالمان کو پورے پاکستان میں ایکٹیو کرنے میں نہایت اہم کردار کیا.
حکیم اللہ بہت محتاط انسان تھا اور کم ہی کسی پہ اعتماد کرتا تھا. وزیرستان میں بیٹھ کے یہ خارجی پورے پاکستان میں دہشتگردی کی کاروائیاں کرتا.
امریکی کی پشت پناہی کرنے اور اسے ہر طرح سے اس کے ذہن میں خون کا دریا بہانا چاہتا تھا.لیکن امریکی سی آئی اے آئی ایس آئی کی طاقت سے بھی بخوبی واقف تھی اس لیے سی آئی اے نے آئی ایس آئی میں اپنے جاسوس پیدا کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا مسلسل ناکامیوں کے نعد بالاخر سی آئی اے کو اس وقت ایک بہت بڑی کامیابی ملی جب آئی ایس آئی کے دو اعلٰی افسران نے سی آئی اے کے لیے کام کرنے کی حامی بھر لی.

سی آئی اے اسے اپنی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی سمجھ رہی تھی. کچھ ہی عرصہ میں ان دو ایجنٹس نے سی آئی اے کا اس قدر اعتماد جیت لیا کہ افغانستان میں کی جانے والی کاروائیاں، پاکستان کے لیے تخلیق کردہ ٹی ٹی پی کے خارجیوں کے سربراہ حکیم اللہ محسود تک رسائی ان کے ٹھکانوں کے بارے تک ان کو معلومات دے دی گئیں یہی ایجنٹس دہشتگردوں اور سی آئی اے کے درمیان رابطوں کا کام بھی کرتے رہے.

انہی آئی ایس آئی کے ایجنٹس نے ایک دن سی آئی اے کو اطلاع دی کہ وزیرستان میں ایک مقام پہ افغان مجاہدین یعنی افغان طالبان ایک خفیہ میٹنگ کررہے ہیں. جہاں افغانستان سے ایک بڑی تعداد میں مجاہدین اور انکے سربراہاں شرکت کریں گے اس لیے وقت رہتے ہی انکے خلاف کاروائی کی جائے. امریکی سی آئی اے نے خوشی سے نہال ہوکر انہیں شاباشی دی اور کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر فوراً اپنے ڈرون روانے کیے اور مطلوبہ مقام پہ میزائلوں کی بارش کردی جہاں موقع پہ موجود تمام لوگ مارے گئے. چند ہی گھنٹوں بعد جب میڈیا پہ بریکنگ نیوز چلیں تو سی آئی اے کی حالت دیکھنے والی تھی یہ بریکنگ نیوز ان کے لیے کسی ایٹم بم سے کم نہ تھی اور آئی ایس آئی، سی آئی اے کو ایک بار پھر چکماء دے گئی.

آئی ایس آئی نے جس خفیہ میٹنگ کی اطلاع سی آئی اے کو دی تھی وہ میٹنگ افغان مجاہدین کی نہیں بلکہ ٹی ٹی پی کے دہشتگرحکیم اللہ محسود کی سربراہی میں ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کی تھی جہاں پاکستان میں دہشتگردی کی کاراوئیوں کے حوالے بات چیت جاری تھی. اس امریکی ڈرون حملے میں حکیم اللہ سمیت کئی خارجی جہنم رسید ہوگئے اور سی آئی اے کو زبردست نقصان اُٹھانا پڑا.کہا جاتا ہے اس واقعے کے بعد امریکی سی آئی اے آج تک ان دو افراد کو پاگل کتوں کی طرح ڈھونڈ رہی ہے.

پاکستان زندہ باد
پاکستان آرمی زندہ باد
پاکستان آئی ایس آئی زندہ باد

No comments:

Post a Comment

Post Bottom Ad

Pages