نائن الیون کی اصل حقیقت کیا ہے؟
امریکہ کی افغانستان آمد کا مقصد کیا تھا ؟
کیا محض نائن الیون میں ملوث ایک شخص کو پکڑنے کے لئے ؟ کیا واقعی ہی ؟
کیا نائن الیون واقعی ہی اسامہ بن لادن کا کارنامہ تھا ؟
آج کئی ماہرین بشمول مغربی ماہرین کے اس بات کا دعوی کرچکے ہیں کہ نائن الیون دراصل ایک ڈرامہ تھا ، اس حوالے سے کئی ماہرین کے آرٹیکل موجود ہیں ، جس میں بلڈنگز کے گرنے کے انداز کو ہی فزیکلی ناممکن ثابت کیا جا چکا ہے کجا اسکے کہ طاقتور ایکسپلوزوز ان کی بنیادوں میں نا لگائے جائیں ، یہ سائنٹیفیکلی ممکن ہی نہیں تھا کہ جہاز اوپر ٹکرائے اور بلڈنگ بنیادوں سے ہی بیٹھ جائے ،
ایمن الظواہری کو امریکہ بلکل ہی فراموش کیوں کرچکا ہے ؟ الظواہری کے لئے ویسی ہی شدت سے کیوں نہیں کوششیں کی گئیں ؟
سب حالات کا مطالعہ کریں گے تو ہنسنے پہ مجبور ہوجائیں گے کہ کیا ایک سپر پاور اتنی بیوقوف ہے کہ اسامہ نامی صرف ایک شخص کو پکڑنے یا ایک معمولی سے ملک میں موجود ایک چھوٹی سی اسلام پسند حکومت کا ختم کرنے آیا ، کھربوں ڈالر ضائع کردئے , اپنی معشیت کا تیاپانچہ کروا دیا , ہزاروں فوجی مروا دئے
چلو ایک منٹ کے لئے مان بھی لیتے ہیں
اسامہ پکڑ لیا یا شہید کردیا گیا ، یا پہلے ہی شہید یا فوت ہوگیا ، قصہ ختم
طالبان حکومت بھی ختم ہوگئی پر امریکہ واپس کیوں نہیں گیا ؟
کیوں کہ امریکہ یہ سب کچھ کرنے ہی نہیں آیا تھا
یہ سب بہانا تھا ، اور نشانہ پاکستان تھا جس پہ حملے کے لئے امریکہ کو مظبوط فوجی اڈے چاہئے تھے
عراق پہ حملے سے پہلے اسلامی دنیا میں یہ بہت سی افواہیں گردش کررہی تھیں کہ عراق اتنی بڑی توپیں بنا چکا ہے جو کئی سو پاؤنڈ کے گولے کئی سو کلومیٹر دور تک پھینک سکتی ہیں ، یہ بہت بڑی خبر تھی اور اس میں کچھ حد تک حقیقت بھی تھی کیوں کہ عراق بہت تیزی سے اپنی ملٹری پاور بڑھا رہا تھا ، اسلامی دنیا میں دو ہی ممالک عراق اور پاکستان اس وقت تیزی سے فوجی طاقت بڑھا رہے تھے ، امریکہ کے معاشی سہارے اسرائیل کو سرحد قریب ہونے کی وجہ سے سب سے بڑا خطرہ عراق سے تھا ، پاکستان کا نمبر دوسرا تھا ،
عراق کو اپریل 2003 میں کیمیکل ہتھیاروں کے جھوٹے دعوے کر کے ملیامیٹ کردیا گیا قابل شرم بات یہ ہے کہ عراق کی تباہی میں کئی مسلم ممالک امریکہ کے شانہ بشانہ تھے ،
لیکن اس سے پہلے پاکستان پہ حملے کے لئے امریکہ کے پاس کوئی بہانہ نہیں تھا
، خطے میں مظبوط اڈوں کی کمی تھی جہاں سے سپلائی اور فورسز کو لاجسٹک امداد فراہم کی جائے ،
آبادی کے لحاظ سے ساتویں بڑے ملک کی فوج اور اس فوج کا اہم اثاثہ جو کہ بھارت اور روس کے خلاف بنائی جہادی تنظیموں کے ٹرینڈ لاکھوں مجاھدین پہ مشتعمل تھا سے لڑنا امریکہ کے لئے انتہائی مشکل تھا ، بیس کروڑ کی آبادی والا یہ ملک امریکی افواج کو اس صورت میں پیس کر رکھ سکتا تھا ،
اس سب کے لئے ضروری تھا کہ خطے میں مظبوط فضائی اور فوجی اڈے تعمیر کئے جائیں ، ان اڈوں سے جہاں پاکستان کو کیپچر کرنا آسان تھا وہیں ، تیزی سے ابھرتی بڑھتی معاشی طاقت چائنہ کو بھی لگام ڈالی جاسکتی تھی
نائن الیوین کا ڈرامہ ہوا تو اس سے ٹھیک چار دن بعد 13 ستمبر 2001 کی رات امریکی سفیر ونڈی چیمبرلین نے مشرف کے سامنے اپنے مطالبات رکھ دئے , دنیا اس وقت حیران رہ گئی کہ جب مشرف نے بنا کچھ وقت لئے فورا مطالبات مان لئے اور پاکستان کس اس جنگ کا حصہ بنا دیا , مگر یہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا مشرف کہ دماغ میں اصل چل کیا رہا تھا
دراصل پاکستان کے سامنے دو راستے تھے
یا تو پاکستان انکار کرے اور پوری دنیا جو کہ اس وقت امریکی ہمدردی میں ڈوبی ہوئی تھی سے جنگ مول لے , یاد رہے پاکستان کے پاس اس وقت تک ایٹم بم تو موجود تھا مگر اسے لیجانے کے لئے میزائل نہیں , پاکستان کا ستر فیصد اسلحہ امریکہ سے خریدا ہوا تھا اور امریکہ اس کی خامیوں خوبیوں کے بارے میں بخوبی آگاہ تھا , بنا میزائل کے ایٹم بم کی حیثیت اپنے ہی گھر میں موجود بنا پن کے گرنیڈ جیسی تھی جس کے پھٹنے کا نقصان خود کو ہی ہوسکتا تھا , مشرف جیسا فوجی جسے 1965 سے لیکر کارگل تک کی ہر جنگ کا تجربہ تھا , بخوبی بھانپ چکا تھا کہ ایسے حالات میں صاف انکار سے پاکستان کا دنیا میں نشان بھی نا ملتا
مشرف نے دوسرا راستہ تلاش کیا , جسے دنیا پراکسی وار فئیر کے نام سے جاننے لگی , مطلب یہ کہ بظاہر امریکہ سے گلے مل کر اسکی پیٹھ پیچھے خنجر گھونپنا , یا سادہ لفظوں میں امریکی جوتے امریکہ کی مدد سے امریکہ ہی کے سر پہ مارنا
مشرف امریکیوں کے سامنے جو بھی آرڈر ملٹری انٹیلیجنس کو دیتا تھا اسی آرڈر کو ناکام بنانے کا ٹاسک آئی ایس آئی کو دے دیا جاتا , امریکہ مشرف کی جی حضوری سے خوش تھا مگر اسکے فرشتے بھی نا جانتے تھے کہ اسکے ساتھ ہونے کیا والا ہے ,




No comments:
Post a Comment