پاک فوج کے جوانوں کی داستانیں - Global TV

We are an agency for promoting your businesses and websites at economical rates. If you wanted to get connected to more people you can contact us.

Breaking

Home Top Ad

loading...

Post Top Ad

loading...

Wednesday, 23 May 2018

پاک فوج کے جوانوں کی داستانیں


پاک فوج کے بہادر جوانوں کی بہادری کی کچھ داستانیں


ریاستیں بے غیرتوں کی غداری سے نہیں ، شیروں کے لہو سے چلتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!

میں نے کرنل سہیل کے باپ کو دیکھا جو آنسو بہانے کی بجائے بیٹے کی لاش کو سلیوٹ کر رہا تھا۔ میں حیران تھا کہ جس چہرے پر بے بسی کا ماتم ہونا چاہیے تھا۔ وہ چہرہ فخر سے جھوم رہا تھا۔



میں نے کیپٹن روح الله کا جنازہ دیکھا ۔ کیپٹن روح الله کی دو مہینے بعد شادی تھی۔ میں نے اپنی آنکھوں سے جنازے پر پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگتے دیکھے۔ یہ قبائلی علاقے کا انوکھا ترین جنازہ تھا جہاں لوگوں نے کلمہ شہادت کے ساتھ پاکستان کے نعرے لگائے تھے۔

میں نے کیپٹن بلال شہید کی ماں کو دیکھا ۔ کیپٹن بلال کو سینے پر راکٹ لانچر کا گولہ لگا تھا ۔ بیٹے کی کٹی ہوئی لاش دیکھ کر بھی اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے ۔ وہ لوگوں کو کہہ رھی تھی ، بیٹے چاہے ہزار ہوتے قربان تو اس دھرتی پر ہی ہونے تھے ۔

میں نے لفٹننٹ ارسلان ستی کی ماں دیکھی۔
ارسلان ستی ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اپنے اکلوتے بیٹے کی لاش سامنے رکھ کر ماں نے کہا " یہ تو پیدا ہی وطن پر کٹنے کے لیے ہوا تھا" 
کبھی سوچو کیسی ماں تھی جو اکلوتے بیٹے کی شہادت پر بھی آہیں سسکیاں نہیں بھر رہی تھی۔ یہ وطن سے محبت کی مکمل تصویر تھی۔

میں نے میجر اسحاق شہید کی لاش دیکھی ۔ تین سال کی بیٹی جس معصومیت کے ساتھ باپ کی لاش کو دیکھ رہی تھی کلیجہ پھٹ گیا تھا۔ 
یہ میجر اسحاق کی بیوی کا ہی حوصلہ تھا جس نے اپنی دنیا اس دھرتی پر لٹا دی۔

کرنل سہیل ، کیپٹن روح الله ، کیپٹن بلال ظفر ، لفٹننٹ ارسلان ستی اور میجر اسحاق ۔۔۔۔۔۔۔
یہ شہیدوں کی چند مثالیں ہیں۔ یہ ان عظیم خاندانوں کی کہانیاں ہیں جن کے لال اس دھرتی پر قربان ہوئے ۔ یہ شہیدوں کے خاندانوں کی مثالیں ہیں جن کے لہو میں وفا شامل ہے۔جنہوں نے کبھی قوم سے شکایتیں نہیں کیں کہ ہمارے ہی بیٹوں کی قربانی کیوں لی گئی ۔۔

یہ تو صرف چند مثالیں ہیں آپ پندرہ ہزار شہدا کہ گھر والوں کو دیکھ لیں کبھی کسی نے ملک و قوم سے شکوہ نہیں کیا۔ کبھی کسی نے پاکستان دشمنوں کے حق میں بیان نہیں دیے ۔ آپ ان پندرہ ہزار گھرانوں میں سے کسی بھی گھر چلیں جائیں ، ہر گھر کے بڑے یہی کہیں گے کہ ہمارا سب کچھ اس وطن کے لیے حاضر ہے۔

مگر آپ دوسری طرف ایک شخص کو دیکھیں ، جسے پاکستان نے فٹ پاتھ سے اٹھا کر دنیا کا امیر ترین آدمی بنایا ۔ تین دفعہ اسے اقتدار کی کرسی پر بیٹھایا ۔ مگر جب وہ اپنے ہی کرتوتوں کی وجہ سے نااہل ہوا تو اسی پاکستان کا دشمن بن گیا۔ اس کہ گھر کے کسی فرد نے نہیں کہا کہ کوئی بات نہیں اقتدار تو آتا جاتا ہے بس پاکستان سلامت رہے۔

ایک طرف شہیدوں کے خاندان ہیں جو اپنے پیارے گنوا کر بھی پاکستان سے عہد وفا برقرار رکھے ہوئے ہیں ۔ اور ایک طرف یہ گھٹیا شخص ہے جو اقتدار چھین جانے پر دشمن کے گھٹنوں میں جا بیٹھا ہے۔

جواب دو کیا ہمارے شہیدوں کا لہو اس غدار کی کرسی سے سستا ہے ۔ ؟؟؟

کرسی چھین جانے پر پاکستان دشمنی پر اتر جانے والے شخص کا دفاع کرنے والوں ۔ اس کے ملک دشمنی والے اقدامات کی حمایت کرنے والوں ۔۔۔۔سنو۔۔۔۔
ریاستیں بے غیرتوں کی غداری سے نہیں شیروں کے لہو سے چلتی ہیں۔۔۔!!!

1 comment:

Post Bottom Ad

Pages