کیا نوازشریف بھارتی ایجنٹ ہے ؟ ایک مختصر جائزہ
ایٹمی دھماکہ
ڈاکٹر قدیر خان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ نوازشریف ایٹمی دھماکے کرنے کے مخالف تھے اور یہ دھماکے کرنے کا کریڈیٹ قدیر خان اور جہانگیر کرامت کو جاتا ہے۔ اور انہی دھماکوں کی سزا کے طور پر جہانگیر کرامت سے استعفیٰ لے لیا گیا
کارگل کی جنگ
کارگل کی جنگ پاکستان نے جیت لی تھی جب پاک فوج نے بھارت کی تمام چوٹیوں پر قبضہ کر لیا تھا اور ان کی واحد سپلائی لائن پاکستان کے نشانے پر تھی۔ اب کشمیر کی آزادی خواب سے ایک حقیقت بن گئی تھی لیکن نوازشریف نے بل کلنٹن سے ملاقات کرنے کے بعد فوج کو پسپائی کا حکم دیا اور ایک جیتی ہوئی جنگ مذاکرات کی میز پر ہار دی اور یوں کشمیر کی آزادی پھر سے خواب بن گئی
بھارت کی بے جا طرف داری
نوازشریف نے 13 اگست 2011 کو ایک انتہائی متنازعہ تقریر کی جس میں اس نے اٹل بہاری واجپائی کے بیانیے کی حمایت کی اور کارگل کی جنگ کو پیٹھ میں چھرا گھونپنے جیسی بات کر کے بھارتی جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کی
دوقومی نظریہ کی منافی
اسی تقریر میں نوازشریف نے دو قومی نظریے کی واضح اور دو ٹوک الفاظ میں یہ کہہ کر نفی کر دی کہ "بھارت اور پاکستان کا کلچر، روایات، زبان، تہذیب اور تمدن ایک ہی ہے۔ درمیان میں صرف ایک لکیر سی ہے"۔ یہ بیانیہ قائداعظم محمد علی جناح کے نظریے خلاف اور گاندھی اور نہرو کے نظریے کی توثیق تھی۔
نوازشریف اور پاک نیوی
بھارت نے 1999 میں پاکستان نیوی کا ایک ائرکرافٹ مار گرایا جس میں 16 نیوی افسران شہید ہو گئے لیکن نوازشریف نے اس پر ایک لفظ بھی مذمت کا نہ بولا اور نہ ہی بھارت سے احتجاج کیا گیا۔ جس کے بعد نیوی میں نوازشریف کے خلاف بہت زیادہ غم و غصہ پایا گیا
جدوجہد آزادی کشمیرکو شدید نقصان
گجرال کو کشمیری مجاہدین کی فہرستیں فراہم کر کے جدوجہد آزادی کشمیر کو انتہائی شدید نقصان پہنچایا گیا
نوازشریف اور پرویز مشرف
آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے جہاز کو پاکستان میں اترنے کی اجازت نہ دی گئی اور اس کو بھارت کی طرف ڈائیورٹ کر دیا گیا۔ بھارت میں اس جہاز کا انتظار کیا جا رہا تھا کہ اگر بھارت میں یہ جہاز اتر جاتا تو وہ کارگل جنگ کے ٹرائل کے لیے پاکستان کے چیف آف دی آرمی سٹاف کو گرفتار کر لیتے جس سے شاید ایک خوفناک بحران کھڑا ہو جاتا
مودی سے یاری
مسلمانوں کے قاتل اور پاکستان کے اولین دشمن نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں گئے۔ اس کی ماں کو ساڑھیوں کے تحفے بھیجے گئے۔ مودی کو اپنی نواسی کی شادی میں بلایا اور ہر سال آموں کے تحفے بھیجے جاتے رہے۔ آخر یہ سب مہربانیاں کیوں کی گئیں ؟
بھارتی لابی سے یاری
معید پیرزادہ نے ایک پروگرام میں یہ انکشاف کیا کہ نوازشریف کو اقتدار میں لانے کے لیے بھارتی لابی نے امریکہ میں زبردست کیمپئن کی تھی اور یوں بین الاقوامی ایسٹبلشمنٹ کی آشیرباد سے نون لیگ حکومت میں آئی
بھارتی نیانیہ
ایک بھارتی وزیر نے ٹی وی پر بیٹھ کر کھلے عام یہ کہا تھا کہ ہم نے نوازشریف پر انویسٹمنٹ کی ہے اور نوازشریف کا خاتمہ بھارتی بیانیے کا خاتمہ ہو گا
وزریر خارجہ کی عدم موجودگی
نریندر مودی نے وزیراعظم بنتے ہیں پاکستان کے خلاف انتہائی خوفناک اور جارحانہ سفارتکاری شروع کر دی لیکن حیرت انگیز طور پر نوازشریف نے وزیر خارجہ ہی نہ لگایا اور یوں مودی کو اوپن ہینڈ دے دیا گیا جس کی وجہ سے پاکستان کو سفارتی محاذ پر تاریخ کی بدترین شکست ہوئی
کلبوششن یادیو پر خاموشی
بھارتی دہشت گرد کلبوشن یادیو پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا لیکن آج کتنے سال ہو گئے نوازشریف نے ایک بار بھی اپنی زبان سے اس کا نام نہ لیا
نواز شریف کی خاموشی
بھارتی ڈیفنس سیکرٹی اجیت دوول نے ٹی ٹی پی کو پاکستان کے خلاف استعال کرنے کا اعتراف کیا۔ نریندر مودی نے مکتی باہنی بنا کر پاکستان کو توڑنے کا اعتراف کیا لیکن نوازشریف اس پر بھی کچھ نہ بولا اور پاکستان کی طرف سے کوئی جواب نہ دیا گیا
پاکستان کے خلاف بیان
نوازشریف نے بھارتی فالز فلیگز ممبئی اٹیکس کو تسلیم کر لیا کہ ہماری حکومت نے بھارت میں دہشت گردی کروائی جس سے بھارتی الزامات کو تقویت ملی اور پاکستان کو بین الاقوامی طور پر دہشت گردی کرنے پر پابندیوں کے خدشے کا سامنا ہے
اجمل قصاب کا قصہ
اجمل قصاب کو پاکستان تسلیم کیا بلکہ ایک صحافی نے یہاں تک کہا کہ اجمل قصاب کا فرید کوٹ والا ایڈریس بھی نوازشریف نے ہی بھارت کو دیا تھا۔
اس کے علاوہ اور بھی بے شمار پوائنٹس ہیں جن سے صاف پتہ چلتا ہے کہ نوازشریف نے ہمیشہ بھارت کو فائدہ پہنچایا ہے۔ ابھی بے شمار دیگر پوائنٹس نہیں لکھے کیونکہ اس طرح مضمون بہت طویل ہو جاتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ نوازشریف کے آخر بھارت کے ساتھ ایسے کیا روابط ہیں جس کی وجہ سے اس نے ہمیشہ بھارت کی حمایت اور پاکستان کی مخالفت کی ہے ؟
اب فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ کیا نوازشریف بھارتی ایجنٹ اور غدار ہے یا نہیں۔۔۔۔۔!!
امن کا نشان
ہمارا پاکستان




No comments:
Post a Comment