ایک صحافی اور پاک فوج کے سپاہی کے درمیان مکالمہ
سوال و جواب !
صحافی نے مورچے میں بیٹھے فوجی سے کہا:
تم اس نوکری سے کتنا کما لیتے ہو؟
فوجی نے حیرت سےصحافی کو دیکھا اور بولا : صاحب کیا میں یہاں ہتھیار تھامے کمائی کرنے بیٹھاھوں؟
سنو ! میرا دادا سپاہی تھا اور دشمن سے لڑتا ھوا مارا گیا۔
اس کے تابوت پر سے جھنڈا اتار کر میرے والد کے ھاتھ میں دے دیا گیا !
میرا باپ بھی سپاہی بنا اور ایک دن اس کی لاش بھی جھنڈے میں لپٹی گھر آ گئی !
اور وہ جھنڈا میرے حوالے کر دیا گیا ،، جس کو سینے سے لگائے میں اس مورچے پہ بیٹھا ھوں ،،،،،،،،،،،
ایک دن کوئی گولی اس مورچے کو میرے خون سے سرخ کرے گی اور پھر میرا بیٹا یہ جھنڈا لے کر یہاں آ کر میری جگہ سنبھال لے گا ۔
صاحب! ھم وطن کے لیے سر کٹانے آتے ھیں کاروبار کرنے نہیں ۔ کاروبار کرنے والے تو ووٹ کی بھیک مانگا کرتے ھیں ۔ ۔ ان سے پہلے یہ کام ان کے باپ دادا کرتے تھے اور ان کے بعد ان کی اولاد بھی یہی کرے گی۔ ۔ ۔ ھم نے کام بانٹ رکھا ھے ۔ وہ تخت پر بیٹھتے ہیں اور ھم مورچے میں ۔ یہ نسلوں کے سودے ھیں ۔ ۔سپاہی دم لینے کو رکا اور پھر کچھ سوچ کر تلخی سے مسکراتے ھوئے کہنے لگا: صاحب نیچے ھو کر بیٹھو کہیں میرے نام کی کوئی گولی تمہیں اپنا شکار نہ سمجھ لے ۔ ابھی تو تم نے جا کر یہ بھی سوچنا ھے کہ شہید کون ھوتا ھے۔ ۔ ۔
سوچنے کا ٹھیکہ جو لے رکھا ھے تم لوگوں نے۔ ۔ ھماری تین نسلیں مورچوں میں ماری گئی ھیں اور تم مہنگی گاڑیوں والے آج تک یہی نہیں سوچ سکے کہ شہید کون ھوتا ھے.
اپنے آرمی کے جوانوں کا ساتھ دیں یہ آپ کا فرض ہے اور اپنے اصلی ھیروز کو خراج تحسین پیش کریں




No comments:
Post a Comment