فاٹا خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے سے کیا فائدہ ہوگا
امریکی ایجنسیوں نے پاکستان کو 2023 سے پہلے ختم کرنے کا پلان بنایا ھوا ھے ۔یہ پلان کیوں بنایا گیا ھے اس کے بارے میں اکثر بھائی نہی جانتے ۔بھائیوں آپ سب جانتے ھو گے کہ دوسری جنگ عظیم کہ بعد جب ترکی کے ذیر اثر ھم مسلمانوں کی خلافت عثمانیہ کا انگریزوں خاتمہ کروایا۔ اس وقت ترک خکمرانوں کے ساتھ ایک ماہدہ کیا گیا تھا
جس کی رو سے ترکی سمیت پوری دنیا سے خلافت کو ختم کر دیا گیا تھا وہ دن دارصل پورے عا لمِ اسلام کے لیے تباہی کا دن تھا ۔اس ماہدے کے مطابق ہم مسلمان پورے ایک سو (100)سال تک دوبارہ اپنی خلافت قائم نہی کر سکتے ۔اور بھائیوں 2023 کو وہ منخوس ماہدہ اپنی موت آپ مر جائے گا۔جس کے بعد دشمن اسلام کی یقینناً موت ھیں ۔اب دشمن ھمارے خلافتی مرکز ترکی کو تباہ نہی کر سکتا کیوں کہ پاکستان چونکہ ایٹمی قووت ھیے اور ایٹمی ہتھیار رکھتا ھیے تو ترکی پر حملے کی صورت میں پاکستان اپنی پوری طاقت سے امریکہ اور اسرئیل پر حملہ کر دے گا ۔
اب دشمن کی خواہش یہ ھے کہ پہلے پاکستان کو ایٹمی ہتھیاروں سے کسی طرح محروم کر دے 2023 سے پہلے تاکہ خلافت قائم نہ کی جا سکے ۔بھائیوں اس وقت ہم کو سندھی ۔بلوچی۔ پٹھان یا پنجابی بن کر نہی بلکہ مسلمان اور پاکستانی بن کر سوچنا چاہئے کہ جب ہمارے دشمن اتحاد کر چکے ہیں تو ہم کیوں نہیں بھائی ھو کر اتحاد کر سکتے ۔بھائیوں اج ہم پاکستانیوں کے لیے اللہ پاک کے انعام کا دن ھے کہ فاٹا کوخیبر پختونخواہ میں ضم کر دیا گیا ھے اب امریکہ فاٹا پر ڈرون حملہ کرنے سے پہلے سو بار سوچھے گا کیوں کہ اب فاٹا علاقہ غیر تصور نہی ھو گا کہ جہاں امریکہ کا جب دل چاہا حملہ کر دیا اب امریکہ کی ایسی کوئی بھی کاروائی پر پاکستان امریکہ کو دنیا کے لیے روس کی طرح نشانِ عبرت بنانے میں دیر نہی لگائے گا ۔
جس کا اندازہ اب چند دن سے خود امریکہ کو بھی ہو گیا ھیے ۔تو مقصد یہ ھیے کہ بروز قیامت ہم لوگوں کو خضورِ پاکؐ کی بارگاہِ مبارک میں پیش کیا جائے گا تو کیا جواب دو گے وہاں کے ہم لوگ بجائے مسلمان بننے کے سندھی بلوچی پنجابی پختون کا کھیل تماشہ عالم اسلام کی ماوُوں بہنووں کو دیکھا دھے تھے جو صرف اپنی آنسووُں بھری آنکھوں سے اللہ سے یہ دعا مانگ رہی تھی کہ پرورد گار جن کو تونے ہماری عزتوں کی حفاظت کے لیے چنا ھیے جب ان کا یہ آپس کا جگھڑہ ختم ھو جائیں تو ان کو ھماری عزتوں کو بچانے کے لیے بیج دینا۔اب فیصلہ ہم کو کرنا ھیں ۔




No comments:
Post a Comment